Now Playing Tracks

یومِ آزادی اور سیاسی ڈرامہ بازی—علی زین

یومِ آزادی اور سیاسی ڈرامہ بازی–علی زین

آج  اسلامی جمہوریہ پاکستان آزادی کی ستاسٹھ بہاریں مکمل کر رہا ہے اور آزاد پاکستان کے شہری  تمام بڑے شہروں میں محصورین کی طرح  یوم ِآزادی منانے پر مجبور ہیں کیونکہ آج پھر ایک بار پاکستان سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ہے۔ آزادی کے دن اس ملک کی  منتخب جمہوری حکومت سے استعفی کے طالب دو لانگ مارچ  دارلحکومت اسلام آباد کی طرف روانگی کو تیار بیٹھے  ہیں۔ اور حکومت نے ان کا احتجاج کا حق تسلیم کرنے کی…

View On WordPress

احتجاج، جمہور اور پاکستان—علی زین

احتجاج، جمہور اور پاکستان–علی زین

پاکستان میں احتجاجی سیاست کی تاریخ شاید اتنی ہی پرانی ہوتی جتنا پرانا خود پاکستان ہے اگر قیام پاکستان کے وقت عمران خان اور شہباز شریف یا طاہر القادری جیسے سیاست دان اور شعلہ بیان مقرر پاکستان کو دستیاب ہوتے۔ عمران خان تو پاکستان بنتے ہی فوری طور پر پاکستان کی سرحد بندی میں ہوئی دھاندلی پر دھرنوں کا اعلان کرتے تو شاید شہباز شریف لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی مالا جھپتے۔ طاہر القادری بھی…

View On WordPress

انقلاب کے موسم میں—علی زین

انقلاب کے موسم میں–علی زین

ملک میں آج کل پھر سے سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے، کہیں نسیم انقلاب چل رہی رہے تو کہیں جمہوریت کو درپیش خطرات کا واویلا مچایا جا رہا ہے۔آزادی کے چھیاسٹھ سال بعد ماہ آزادی میں ہی حکومت کو ایک نہیں بلکہ “دو دو مارچوں ”   کا سامنا ہے اور حکومت کی برخاستگی کی نوید سنائی جارہی ہے۔ویسے تو حکومت کے خاتمے کی تاریخیں آنا پاکستان میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں، اور جب حکومت بھی میاں محمد نواز شریف کی ہوجو پہلے ہی…

View On WordPress

سب کچھ نبھٹا کر “میاں” عمرے کو چلے—علی زین

سب کچھ نبھٹا کر “میاں” عمرے کو چلے–علی زین

جنوبی ایشیاء کی رسومات میں سے ایک رسم  ہے کہ کوئی بڑی کامیابی حاصل کرکےلوگ مزاروں، درگاہوں یا مندروں پر سلامی پیش کرنے اور چڑھاوے چڑھانے جاتے ہیں۔ آج بھی پاکستان میں جب کوئی اپنی زندگی کے عمومی فرائض سے نبرد آزما ہو جاتا ہے تو حج کرنے سعودی عرب کا رخ کرتا ہے۔ گویا وہ دنیا کے تمام ضروری کام نمٹا کر اللہ کے حضور پیش ہو کر اس کا شکر ادا کرتا ہے۔  وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی بیس رمضان…

View On WordPress

We make Tumblr themes